پاکستان کی چند مشہور مساجد اور ان کی تاریخ

پاکستان کی چند مشہور مساجد اور ان کی تاریخ 

دنیا میں ان گنت مساجد ہیں اور ہر مسجد اپنی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ پاکستان میں بے پناہ خوبصورت مساجد ہیں جن میں سے چند مساجد کی تاریخ ہم یہاں بیان کر رہیں ہیں۔ 

شاہ فیصل مسجد:۔ 





یہ مسجد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع ہے۔ فیصل مسجد جنوبی ایشیا کی دوسری بڑی مسجد اور دنیا کی چوتھی بڑی مسجد ہے۔ اسے ترکی کے ماہر تعمیرات ویدت دلوکے نے ڈیزائن کیا۔ اور اپنے ڈیزائن کے اعتبار سے یہ مسجد صحرائی بدوؤں کے خیموں کا منظر پیش کرتی ہے۔ اس کی تعمیر 1986 میں مکمل ہوئی۔ اسے پاکستان کی قومی مسجد کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اور اسے عرب دنیا کے مرحوم بادشاہ فیصل بن عبد العزیز کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ جنہوں نے اس کی تعمیر کے لیے بھرپور معاونت کی۔ 

فیصل مسجد 146 ایکڑ کے رقبے پر تعمیر کی گئی ہے۔ مسجد کے مرکزی ہال کا رقبہ 82 ہزار 944 فٹ مربع میٹر ہے۔ مسجد کے مرکز کے چاروں طرف چار مینار ہیں. جن میں سے ایک کی بلندی 285 فٹ ہے۔ مسجد کا مرکزی ہال ایک خیمے کی شکل میں ڈیزائن کیا گیا ہے۔ جس کی اونچائی اندرونی جانب سے 140 فٹ اور بیرونی جانب سے 150 فٹ ہے۔ 

روائتی مساجد کے ڈیزائن کے برعکس، اس کا کوئی گنبد نہیں ہے۔ مینار ترکی کے روایتی ڈیزائن ، پتلے اور پینسل کی شکل کے بنے ہوئے ہیں۔ مرکزی خیمے کی شکل والے ہال کی دیواروں پر پیچیدہ خطاطی کے ساتھ درمیان میں ایک عظیم الشان ترکی فانوس لٹکا ہوا ہے۔ اس مشہور مسجد کا بیرونی حصہ بھی بہت شاندار ہے۔ فیصل مسجد مارگلہ کی پہاڑیوں کے دلکش پس منظر میں واقع ہے۔ 


بادشاہی مسجد لاہور:۔ 




بادشاہی مسجد لاہور، پاکستان کی سب سے مشہور اور شاندار مسجد ہے۔ یہ مغلیہ دور کی متعدد مساجد میں سے ایک ہے۔ مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے ہندوستان کے پانچویں مغل شہنشاہ کی حیثیت سے اپنے دور حکومت میں بادشاہی مسجد تعمیر کی۔ اس مسجد کو پاکستان میں مغل فن تعمیر کا ایک غیر معمولی نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ مسجد کا فن تعمیر سادہ مگر شاندار ہے۔  مسجد کا ڈیزائن مظفر حسین نے تیار کیا، جو اس وقت لاہور کے گورنر اور اورنگزیب کے بہنوئی بھی تھے۔ 

بادشاہی مسجد کی تعمیر کا آغاز 1670 میں ہوا۔ اور یہ آ ٹھ سال میں مکمل ہوئی۔ مسجد کے چاروں طرف بڑی دیواریں 25 فٹ تک موٹی ہیں۔ اس کے چار مینار ہے۔ اور مرکزی دروازے پر 3 بڑے گنبدوں کے علاوہ 22 گنبد ہیں۔ اس کا صحن 276,000 مربع فٹ پر پھیلا ہوا ہے۔  اس کے مینار 196 فٹ اونچے ہیں۔ اس میں ایک لاکھ نمازی بیک وقت نماز ادا کر سکتے ہیں۔ اس وقت اس کا انتظام محکمہ اوقاف کے پاس ہے۔ جس نے مسجد کی انتظامی کمیٹی کو نگران کا کام سونپا ہے۔ 1981 میں یو نیسکو نے اسے" عالمی ثقافتی ورثے" کے طور پر رجسٹر کر لیا تھا۔ 


وزیر خان مسجد لاہور:۔ 





لاہور میں واقع مسجد وزیر خان اپنے وسیع و عریض ٹائل کے کام کے لیے مشہور ہے۔ مسجد کی خوبصورتی کی وجہ سے اسے " لاہور کے گال پر تل " قرار دیا گیا ہے۔  یہ مغل شہنشاہ  شاہجہان کے دور حکومت میں 1634ء کے لگ بھگ سات سال میں تعمیر کی گئی۔ 

اسے چنیوٹ کے رہنے والے حکیم شیخ علم الدین انصاری نے بنایا۔  جو شاہجہان کے درباری معالج اور لاہور کے گورنر بنے۔ وہ عام طور پر وزیر خان کے نام سے مشہور تھے۔ اس لیے ان کے نام پر مسجد کا نام " وزیر خان مسجد" رکھا گیا۔ مسجد کے چاروں کونوں میں میناروں کا استعمال ہے۔ لاہور میں پہلی بار ایسا ڈیزائن استعمال کیا گیا تھا۔ مسجد کا زیادہ تر حصہ کٹی ہوئی اینٹوں سے بنایا گیاہے۔ جسے چمکدار ٹائل موزیک سے سجایا گیا ہے۔ 


طوبیٰ مسجد کراچی:۔ 





طوبیٰ مسجد کراچی میں واقع ہے اور گول مسجد کے نام سے مشہور ہے۔ یہ 1969ء میں تعمیر کی گئی تھی اور یہ دنیا کی سب سے واحد گنبد والی مسجد ہے جس کے مرکزی ہال میں کوئی ستون نہیں ہے۔ مسجد خالص سفید سنگ مرمر سے تیار کی گئی ہے۔  گنبد کا قطر 72 میٹر ہے۔ اور یہ مرکزی ستون کے بغیر چھوٹی بند دیوار پر ٹکا ہوا ہے۔ 

اس میں صرف ایک مینار ہے جو 120 فٹ بلند ہے۔ یہ مسجد دنیا کی اٹھارویں بڑی مسجد ہے۔ اس کی مرکزی اجتماع گاہ میں 5000 افراد بیٹھ سکتے ہیں۔ اسے پاکستانی ماہر تعمیرات" ڈاکٹر بابر حامد چوہان اور انجینئر ظہیر حیدر نقوی نے ڈیزائن کیا ہے۔  


مسجد مہابت خان پشاور:۔ 





مسجد مہابت خان پاکستان میں 17ویں صدی کی ایک عالی شان مسجد ہے۔ جو پشاور کے پرانے شہر میں واقع ہے جسے " اندر شہر" کے نام سے جانا جاتا ہے۔  اس کا نام پشاور کے مغل گورنر نواب مہابت خان کے نام پر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے شہنشاہ شاہجہان اور اورنگزیب کے دور میں خدمات انجام دیں اور ور مہابت خان دادن خان کے پوتے تھے۔ 

یہ مسجد بھی مغل فن کا شاہکار ہے۔ اس کا ایک تنگ لیکن بڑا داخلی دروازہ ہے جو ایک بڑے صحن کی طرف جاتا ہے۔  صحن کے وسط میں ٹھنڈے پانی کا ایک وضو کا تالاب ہے۔ جس کی دونوں طرف کمروں کی قطار ہے۔ اور مغرب کی طرف ایک مرکزی نماز خانہ ہے۔ مرکزی ہال کو اندر سے پھولوں کے کام  اور خطاطی سے سجایا گیا ہے۔ مہابت خان مسجد ایک بہت بڑی عبادت گاہ ہے جس میں پانچ محراب والے داخلی راستے تین گنبدوں سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ مرکزی ہال کے اوپر 6 چھوٹے آرائشی مینار ہیں جن کے ڈھانچے کے ساتھ دو اونچے مینار ہیں۔ مسجد کے چھت کو دلکش پھولوں اور جیو میٹرک نقشوں سے سجایا گیا ہے۔ مسجد کا بیرونی حصہ سفید سنگ مرمر سے تیار کیا گیا ہے۔  اس مسجد اور اس کے ملحقہ صحن میں ایک وقت میں تقریباً 14 ہزار لوگ نماز ادا کر سکتے ہیں۔ 


شاہجہان مسجد ٹھٹھہ:۔ 





شاہجہان مسجد پاکستان کی مشہور مساجد میں سے ایک ہے جو ٹھٹھہ میں واقع ہے۔  یہ مسجد 1647 میں مغل بادشاہ شاہ جہاں کے دور میں سندھیوں کی مہمان نوازی کے تحفے کے طور پر تیار کی گئی تھی۔ اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والی بھاری سرخ اینٹیں اور نیکی چمکیلی ٹائلیں اپنی نوعیت کی منفرد ٹائلیں ہیں۔ مسجد کے 93 گنبد ہیں۔ 

اس کی تعمیر کی ایک قابل ذکر خصوصیت یہ ہے کہ مرکزی محراب کے سامنے بلند آواز سے بولنے والے کی آواز پوری عمارت میں صاف سنائی دیتی ہے۔ اس عظیم الشان مسجد میں ایک وقت میں 20000 نمازی نماز ادا کر سکتے ہیں۔  


عید گاہ مسجد، ملتان:۔ 





ملتان کی یہ عظیم الشان اور تاریخی مسجد 1735 میں نواب عبد الصمد خان نے اس دور میں تعمیر کروائی جب وہ ملتان میں مغل گورنر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ یہ مسجد ایک وسیع صحن کی حامل ہے جبکہ مرکزی عمارت 250 فٹ چوڑی ہے اور چھوٹے بڑے سات گنبدوں پر مشتمل ہے۔ اس کی بیرونی آ رائش چمکدار نیلی ٹائلوں سے مزین ہے  جبکہ اندرونی حصے میں خوبصورت نقاشی کی گئی ہے۔ 



 
































































































Comments

Popular posts from this blog

پاکستان کے روایتی کھانے

Top 20 beautiful tourist attractions in Pakistan